الحمدللہ! جامعہ تعلیم القرآن اسلامک اکیڈمی ایک ایسا ادارہ ہے جہاں طلبہ و طالبات کو بیک وقت قرآن و سنت کی تعلیم، عصری علوم اور جدید مہارتوں کی رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔ اس وقت جامعہ میں تقریباً چھ سو طلبہ و طالبات مختلف شعبہ جات کے تحت علم سے آراستہ ہو رہے ہیں۔ یہاں طلبہ کو قرآن مجید حفظ کروایا جاتا ہے اور ساتھ ساتھ لفظی ترجمہ بھی سکھایا جاتا ہے تاکہ وہ قرآن کے پیغام کو بہتر طور پر سمجھ سکیں اور اپنی زندگی میں نافذ کر سکیں۔ وقت کی اہم ضرورت کے پیشِ نظر یہ شعبہ قائم کیا گیا ہے۔ یہاں طلبہ کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کی معیاری تعلیم بھی دی جاتی ہے۔
مہتمم محترم مفتی ناصر محمود عباسی صاحب کی خواہش ہے کہ طلبہ کی تعلیم صرف فنونِ لطیفہ تک محدود نہ رہے بلکہ وہ سائنس، آئی ٹی اور دیگر جدید علوم میں بھی مہارت حاصل کریں، تاکہ وہ زمانے کے چیلنجز کا کامیابی سے مقابلہ کر سکیں۔ یہ شعبہ اعلیٰ دینی تعلیم، کتب کی تدریس اور خواتین کے لیے علیحدہ نظام تعلیم فراہم کرتا ہے، تاکہ ہر طالب علم اور طالبہ اپنی تعلیم بلا رکاوٹ مکمل کر سکے۔ ہمارے ادارے میں قائم خانقاہ عباسیہ میں جسمانی اور روحانی علاج کا بھی اہتمام موجود ہے۔ یہاں نہ صرف دلوں کو سکون ملتا ہے بلکہ عوام الناس کو دینی و نظریاتی آگاہی بھی فراہم کی جاتی ہے، تاکہ وہ باکردار اور باشعور زندگی گزار سکیں۔ جامعہ میں بچوں کو ایک ہی چھت تلے دینی و عصری علوم کی اعلیٰ تعلیم دی جاتی ہے تاکہ وہ نیک، باصلاحیت اور کامیاب انسان بن سکیں۔
جامعہ کے ماہانہ اخراجات میں طلبہ کی رہائش، کھانے پینے کے مکمل انتظامات، تعلیمی سہولیات کی فراہمی، اساتذۂ کرام کی تنخواہیں، بجلی، گیس اور دیگر ضروری بلز سمیت ادارے کے انتظامی و تعلیمی امور شامل ہیں
ان تمام ضروریات کو احسن انداز میں جاری رکھنے کے لیے ماہانہ تقریباً 18 سے 20 لاکھ روپے درکار ہوتے ہیں، جو اہلِ خیر کے تعاون اور عطیات سے پورے کیے جاتے ہیں۔
آپ کا تعاون اس دینی و تعلیمی خدمت کے تسلسل میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
تعلیمی نظام میں طلبہ کی ہمہ جہت تربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے تاکہ وہ علمی اور عملی دونوں میدانوں میں نمایاں کارکردگی دکھا سکیں۔ تحریری صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے باقاعدہ مشق اور رہنمائی فراہم کی جاتی ہے جبکہ تقریری مہارت کے فروغ کے لیے ہر ہفتہ جماعتی سطح پر اسپیچ اور پریزنٹیشن کی عملی مشق کروائی جاتی ہے۔ دینی اور عصری دونوں علوم میں متوازن تعلیم فراہم کی جاتی ہے اور ہر مضمون کے لیے ماہر و تجربہ کار اساتذہ موجود ہوتے ہیں جو طلبہ کی تعلیمی رہنمائی کے ساتھ ان کی شخصیت سازی پر بھی خصوصی توجہ دیتے ہیں۔ مثبت، باوقار اور دوستانہ تعلیمی ماحول سیکھنے کے عمل کو مؤثر بناتا ہے جبکہ باقاعدہ ٹیسٹ سسٹم، نظم و ضبط اور اخلاقی تربیت کو نظامِ تعلیم کا لازمی حصہ بنایا گیا ہے تاکہ باصلاحیت، باکردار اور ذمہ دار افراد تیار ہو سکیں جو معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں